10 اگست 2013 - 19:30
بحرین کے بادشاہ پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ

بحرين کے سياسي رہنما اور برطانوي ميڈيا نے برطانيہ اور بحريني حکومت کے درميان بڑھتے ہوئے تعلقات کي مذمت کي ہے.

ابنا: بحرين کے سياسي رہنما سعيد الشہابي نے برطانوي حکومت کے ساتھ بحرين کے بادشاہ کے قريبي تعلقات کي مذمت کرتے ہوئے ان پرمقدمہ چلائے جانے پر زور ديا ہے  دوسري جانب برطانوي اخبارڈيلي ٹيلي گراف نے بھي بحريني حکومت کے ساتھ برطانيہ کے فوجي معاہدے پر شديد تنقيد کي ہے۔بحرين کے سياسي رہنما سعيد الشہابي نے لندن ميں اپنے ايک بيان ميں کہا کہ برطانوي حکومت کے بحرين کے بادشاہ کے ساتھ قريبي تعلقات ہيں۔ سعيد الشہابي نے کہا کہ بحرين کے ڈکٹيٹر پر عدالت ميں مقدمہ چلايا جانا چاہئے اور انہوں نے جرائم کا جو ارتکاب کيا ہے اس کي وجہ سے انہيں سزا دي جاني چاہئے۔بحرين کے سياسي رہنما نے کہا کہ بحرين کي موجودہ حکومت جرائم پيشہ ہے اور اس کو بين الاقوامي ميدان ميں آنے کي اجازت نہيں دي جاني چاہئے۔اس  درميان برطانوي اخبار ڈيلي ٹيلي گراف نے بھي بحرين اور برطانيہ کےدرميان ايک ارب پونڈ کے فوجي معاہدے پر شديد تنقيد کي ہے ۔ڈيلي ٹيلي گراف نے سنيچر کي اشاعت ميں برطانوي حکومت کے اس فيصلے پر شديد تنقيد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ برطانوي حکومت ايک ايسے وقت يہ معاہدہ کررہي ہے جب انساني حقوق کے تعلق سے بحرين کي شاہي حکومت کا ريکارڈ بہت ہي خراب ہے اور اسي وجہ سے اس کو گذشتہ ڈھائي برس عوامي مظاہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔برطانوي ميڈيا نے پہلے بھي بحريني حکومت پر اسي طرح کي تنقيديں کي تھيں۔ برطانوي وزير اعظم کے دفتر کے بيان ميں اس بات کي تصديق کي گئي ہے کہ بحرين کو بارہ ٹائيفون جنگي طيارے فروخت کئے جانے کے سلسلے ميں مذاکرات انجام پارہے ہيں۔

.......

/169